Islamic Books

Islamic books library, where you can download online islamic books in pdf with more than 11 languages, read authentic books about Islam Collection of Islamic Books in Urdu and English of different Islamic Authors All Types pdf Books Free Download urdu books free download Free Pdf Books Downloads Categories Technical and science books

Breaking

Monday, August 10, 2020

صحيح مسلم الاوقاف السعودية

صحيح مسلم الاوقاف السعودية

صحيح مسلم الاوقاف السعودية


الإمام العلامة الحافظ المؤرخ الفقيه والمفسر وقاضي المجتھد المحدث الکبیر الشيخ أبو الحسين مسلم بن الحجاج بن مسلم بن ورد بن كوشاذ القشيري النيسابوري رحمة الله عليه المتوفیٰ 261ھ


عنوان الكتاب: صحيح مسلم الاوقاف السعودية

الناشر: وزارة الشؤون الاسلامية والدعوة والارشاد السعودية
سنة النشر: 1421 - 2000
عدد الصفحات: 1492

نبذة عن الكتاب: - طبعة ممتازة مقارنة مع عدة طبعات (الطبعة الهندية وطبعة العامرة بتركيا وطبعة عبد الباقي)، مرقمة ترقيما مسلسلا مع ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي، مع الإشارة إلى مواضع التكرار.





وهو المسند الصحيح المختصر من السنن بنقل العدل عن العدل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. - خرج المحقق الأحاديث على باقي الصحاح والسنن الستة ومسند الإمام أحمد ورقم الأبواب وفقا للمعجم المفهرس وتحفة الأشراف وفهرس الأحاديث والآثار على ترتيب الحروف







پی ڈی ایف فری ڈاؤن لوڈ لنک


PDF Free Download Link Here




صحيح مسلم الاوقاف السعودية
















سوانح حیات:​ امام مسلم بن حجاج القشیری رحمۃ اللہ علیہ


امام مسلم بن حجاج القشیری رحمۃ اللہ علیہ کے حالات زندگی:
الامام، الحافظ، الحجتہ ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم بن ورد بن کوشاذ القشیری، النیسابوری 202 یا 204 یا 206 ھ میں نیشا پور میں پیدا ہوئے اور وہیں علم کی کئی منزلیں طے کیں۔ ان کے والدین صاحب حثیت تھے۔ اس لیے امام مسلم کو زندگی میں رزق کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی انہوں نے اپنی زندگی علم حدیث کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ​
خاندان اور سلسلہ نسب و پیدائش اور وفات:

امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری بن دردین تھا۔ ابولحسین آپ کی کنیت تھی اور عساکر الدین لقب تھا۔ قبیلہ بنو قشیر سے آپ تعلق رکھتے تھے جو عرب کا ایک مشہور خاندان تھا اور خراسان کا مشہور شہر نیشاپور آپ کا وطن تھا۔ حضرت امام مسلم 203ھ یا 206ھ میں باختلاف اقوال پیدا ہوئے لیکن اکثر علما اور مؤرخین کی تحقیق یہ ہے کہ آپ کا سنہ ولادت 206ھ زیادہ معتبر ہے۔ حضرت امام نووی شارح صحیح مسلم لکھتے ہیں کہ حضرت امام مسلم 206ھ میں پیدا ہوئے، 55 سال کی عمر پائی اور 24 رجب 261ھ کو اتوار کے دن شام کے وقت وفات پائی اور نیشاپور میں دفن ہوئے۔
حصول علم:
اٹھارہ برس کی عمر میں سب سے پہلے حدیث کا سماع (سماع اور کتابت لازم و ملزم تھے) یحییٰ بن یحییٰ تمیمی سے کیا۔ 220ھ میں حج کیا اور مکہ میں امام مالک کے اجل ترین شاگرد عبداللہ بن مسلمہ قعنبی سے احادیث سنیں اور لکھیں۔ کوفہ میں انہوں نے [سیر أعلام النبلاء: 558/12، وتذکرۃ الحفاظ: 281/1]
احمد بن یونس کے علاوہ علماء کی ایک جماعت سے، پھر حرمین، عراق اور مصر کے تقریباً دو سو بیس استاتذہ سے احدیث حاصل کیں۔ حصول حدیث کا طریقہ یہی تھا کہ احادیث مع اسناد سنی اور ساتھ لکھی جاتی تھی۔
اساتذہ:
ان کے اہم اساتذہ میں امام احمد بن حنبل، احمد بن منذر قزاز، اسحاق بن راہویہ، ابراہیم بن سعید جوہری، ابراہیم بن موسٰی، ابواسحاق رازی، احمد بن ابراہیم، اسحاق بن موسٰی انصاری (ابوموسٰی)، اسماعیل بن ابی اویس، حرملہ بن یحییٰ (ابوحفص تحبیبی)، حسن بن ربیع بورانی، ابوبکر بن ابی شیبہ، یعقوب بن ابراہیم دورقی، ابوزرعہ رازی اور یحییٰ بن معین جیسے حفاظ حدیث شامل ہیں۔
روزگار:
امام مسلم رحمہ اللہ کا کچھ کاروبار ایک قدیم قصبے خان محمش میں تھا، ان کی معاش کا زیادہ تر انحصار ان کی جاگیر پر تھا جو نیشاپور ہی مضافات میں واقع تھی۔
امام حاکم کے والد (عبداللہ بن حمدویہ) کو ان کے والد (امام حاکم کے دادا) نے بتایا انہوں نے امام مسلم کی زیارت خان محمش میں کی تھی۔ ان کی قامت پوری، رنگ گورا اور داڑھی سفید تھی۔ انہوں نے عمامے کا ایک کنارہ دونوں کندھوں کے درمیان پشت پر لٹکایا ہوا تھا۔ امام حاکم کے والد نے امام مسلم کے گھر میں ان کی بیٹیوں کی اولاد بھی دیکھی۔
تصنیفات:
امام مسلم رحمہ اللہ کی اہم ترین تصنیفات جنہیں امام حاکم اور دوسرے محدثین نے ذکر کیا ہے یہ ہیں:
رجال:
➊ «الأسامي والكني»
➋ «كتاب الطبقات»
➌ «كتاب الوحدان»
➍ «كتاب الافراد»
➎ «كتاب الأقران»
➏ «كتاب أولاد الصحابة»
➐ «كتاب أفراد الشامبين»
➑ «كتاب مشايخ مالك»
➒ «كتاب مشايخ الثوري»
➓ «كتاب مشايخ شعبة»
⓫ «كتاب من ليس له إلا راو واحد»
⓬ «كتاب المخضرمين»
⓭ «كتاب طبقات التابعين»
متون حدیث:
➊ «كتاب المسند الكبير على الرجال»
➋ «كتاب الجامع عل الأبواب»
➌ «كتاب المسند الصحيح» (عرف عام ميں صحيح مسلم)
➍ «كتاب حديث عمرو بن شعيب»
نقد الحدیث:
➊ «كتاب التميز»
➋ «كتاب العلل»
➌ «كتاب سؤالات احمد بن حنبل»
➍ «كتاب أوهام المحديثين»
فقہ الحدیث:
➊ «كتاب الانتقاع باهب السباع»
یہ امام مسلم کی اہم ترین کتابوں کے نام ہیں، ان کی ساری تصنیفات کی فہرست نہیں ہے۔

صحیح مسلم میں روایات کی تعداد:
اس احتیاط و اہتمام کے ساتھ امام مسلم نے جو صحیح مرتب کی، تکرار کے بغیر اس کی احادیث کی تعداد تین ہزار تینتیس ہے اور مکرر احادیث کو شمار کیا جائے تو کل احادیث سات ہزار پانچ سو تریسٹھ ہیں۔ امام مسلم نے یہ انتخاب تین لاکھ احادیث سے کیا ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تین لاکھ احادیث سے مراد تین لاکھ متن یا مرویات نہیں۔ احادیث کی عدد شماری کا اصول اس مثال سے واضح ہوتا ہے: اگر ایک صحابی سے ایک تابعی نے حدیث بیان کی تو ایک حدیث ہے اگر دو نے کی دو حدیثیں ہیں اسی طرح تابعی سے جتنے شاگردوں نے سن کر حدیث بیان کی اسی حساب سے نمبر بڑھتا گیا ہے۔ تین لاکھ احادیث سے مراد تین لاکھ الگ الگ سندوں سے بیان کردہ روایات ہیں۔ بعض لوگ اس اصول کو نہیں سمجھتے اس لیے بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
وفات:
ان کی وفات کا واقعہ جس طرح تاریخ بغداد اور سیر اعلام النبلاء میں بیان کیا گیا ہے، انتہائی عجیب ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ فن حدیث میں ان کی جستجو کا کیا عالم تھا اور اس حدیث میں ان کا انہماک کس درجے پر پہنچا ہوا تھا۔

احمد بن سلمہ کہتے ہیں: امام مسلم رحمہ اللہ سے استفادے کے لیے ایک مجلس مذکراہ منعقد کی گئی، اس میں ان کے سامنے ایک ایسی روایت کا ذکر آیا جو ان کو معلوم نہ تھی۔ گھر واپس آئے تو چراغ جلایا اور گھر والوں سے کہا کہ ان کے کمرے میں کوئی نہ آئے۔ گھر والوں نے بتایا کہ گھر میں کھجور کا ایک ٹوکرا ہدیہ بھیجا گیا ہے فرمایا: لے آؤ۔ وہ حدیث کی تلاش میں منہمک ہو گئے ٹوکرا ساتھ رکھا تھا، بےخیالی کے علام میں ٹوکرے سے کھجور کا ایک ایک دانہ اٹھا کر منہ میں ڈالتے رہے، اسی عالم میں صبح ہو گئی۔ انھیں حدیث کی تفصیلات مل گئیں ادھر ٹوکرا خالی ہو گیا۔ کہا جاتا ہے اسی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑ گئی اور علم و عرفان کا یہ سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ امام مسلم رحمہ اللہ کی وفات 24 رجب 261ھ کے اتوار کی شام کو ہوئی، اگلے روز نیشاپور میں تدفین ہوئی۔

No comments:

Post a Comment

Dear friends, please let me know your thoughts for my guidance so that I can correct myself. Thanks for visiting my website
May Allah be our supporter and helper. Amen

Featured Post

About Hazrat Adam (peace be upon him)

About Hazrat Adam (peace be upon him) Title: Hazrat Adam (Peace be Upon Him):   The First Man and Prophet   Introduction:   Ha...